خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں
Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Zaheer
خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے
کہ روح کی صدا کو دبایا نہیں جا سکتا سدا!
ہم نے تو ظلم کے ہر وار کو خندہ پیشانی سے سہا
پر حق کے راستے سے قدم ہٹایا نہیں جا سکتا سدا!
ظہیرؔ شجاعت کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا
جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!
Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai
Ke Rooh Ki Sada Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada!
Hum Ne To Zulm Ke Har Waar Ko Khanda-Peshani Se Saha
Par Haq Ke Raaste Se Qadam Hataya Nahin Ja Sakta Sada!
ظہیر کاشمیری
پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...
