شاعری ہب / غزل / شبِ ویراں کا یہی فسانہ ہے

شبِ ویراں کا یہی فسانہ ہے

Shab-e-Veeraan ka Yehi Fasaana Hai Zaheer Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ ویراں کا یہی فسانہ ہے سدا

کہ دل کو فکری طوفانوں میں لانا ہے سدا!

ہم نے تو نیند کے غفلت کدوں کو چھوڑ دیا

جہاں سچائی کا پرچم سدا اٹھانا ہے سدا!

ظہیرؔ بیداری کا یہ چراغ کبھی نہ بجھے گا

جسے ہر دور کے انسان نے دل میں بسانا ہے سدا!

Shab-e-Weeraan Ka Yehi Fasaana Hai Sada

Ke Dil Ko Fikri Toofanon Mein Laana Hai Sada!

Hum Ne To Neend Ke Ghaflat-Kadon Ko Chhod Diya

Jahan Sacchayi Ka Parcham Sada Uthaana Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے