شاعری ہب / غزل / صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

Subh-e-Nou ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Zaheer

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم ظہیرؔ

تا کہ ہر مظلوم کے چہرے پہ مسکان کھل سکے سدا!

ہم نے تو اپنے قلم کو تلوار بنا رکھا ہے

تا کہ جہالت اور غربت کا اندھیرا مٹ سکے سدا!

ظہیرؔ انقلاب کا یہ سویرا ضرور طلوع ہو گا

جس سے سارا جہان جگمگا سکے سدا!

Subh-e-Nau Ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Zaheer

Ta Ke Har Mazloom Ke Chehre Pe Muskaan Khil Sake Sada!

Hum Ne To Apne Qalam Ko Talwaar Bana Rakha Hai

Ta Ke Jahaalat Aur Ghurbat Ka Andhera Mit Sake Sada!

غزل Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے