شاعری ہب / غزل / ہم نے ہر دور میں حق کا بیان کیا ہے

ہم نے ہر دور میں حق کا بیان کیا ہے

Hum Ne Har Daur mein Haq ka Bayaan Kiya Zaheer Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم نے ہر دور میں حق کا بیان کیا ہے ظہیرؔ

چاہے دار و رسن ہی اپنا مقدر کیوں نہ بنے سدا!

ہم نے روایتی جبر کے آگے کبھی سر نہ جھکایا

اور سچائی کا پرچم فلک پہ لہرایا سدا!

ظہیرؔ جراتِ رندانہ ہی سب سے بڑی دولت ہے

جس سے انسانی وقار کو سربلند بنایا سدا!

Hum Ne Har Daur Mein Haq Ka Bayaan Kiya Hai Zaheer

Chaahe Daar-o-Rasan Hi Apna Muqaddar Kyon Na Bane Sada!

Hum Ne Riwayati Jabr Ke Aage Kabhi Sar Na Jhukaaya

Aur Sacchayi Ka Parcham Falak Pe Lehraaya Sada!

غزل Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے