شاعری ہب / غزل / دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

Dil ke Sahra mein Koi Diya Jala Kar Dekho Zaheer

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

اور تنہائی کے سناٹے میں کلام سن کر دیکھو!

ہم نے تو لٹایا ہے فکری نغموں کا خزانہ

اب خود کو اس سچائی کا آئینہ بنا کر دیکھو!

ظہیرؔ محبت اور عزم کا یہ حسیں سنگم

جسے اپنے جذبوں کے سنگ سجا کر دیکھو!

Dil Ke Sehra Mein Koi Diya Jala Kar Dekho

Aur Tanhaayi Ke Sannaate Mein Kalaam Sun Kar Dekho!

Hum Ne To Lutaya Hai Fikri Naghmon Ka Khazana

Ab Khud Ko Is Sacchayi Ka Aayina Bana Kar Dekho!

غزل Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے