حمدیہ کلام و مناجاتِ باری تعالیٰ
حمدیہ کلام و مناجاتِ باری تعالیٰ
Hamd & Divine Praise 156 کلام
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا — بارگاہِ رب العزت میں پیش کردہ منتخب، روح پرور اور لازوال حمدیہ کلام
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
اے کردگارِ عالم تیری پناہ چاہیں
تاریکیِ گناہ سے اب ہم نجات چاہیں
تیری ثنا میں خاک نشینوں کا کیا کلام
تو بے نیاز و قادر و قیوم ہے مدام
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
خواجہ میر درد
Classical
مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا
ہم سبھی مہماں تھے تو ہی شمع اس محفل میں تھا
خواجہ میر درد
Classical
ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
خواجہ میر درد
Classical
گو سب سے سوا ہے شانِ تیری
ہے ہر شے پہ جلوہ فشانِ تیری
مولانا الطاف حسین حالی
Classical
نہ ہو تجھ سوا کوئی مسجود جن کا
نہ ہو تیرے بن کوئی مقصود جن کا
مولانا الطاف حسین حالی
Classical
اے بصیرت کے خدا اے دل کے بینا رہنما
دے ہمیں توفیق کہ ہم پر عیاں ہو تیری راہ
مولانا الطاف حسین حالی
Classical
رات کا وقت ہے ستارے ہیں
رب کی قدرت کے یہ نظارے ہیں
تو ہے سب کا پالنہار
تو ہی کرتا ہے بیڑا پار
ہر ایک پودے پہ پھول کھلایا
خدا نے کیسا کرم کمایا
