شاعری ہب / نظم / ہم دیکھیں گے (لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے - شاہکارِ انقلاب)

ہم دیکھیں گے (لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے - شاہکارِ انقلاب)

Hum Dekhenge Laazim Hai ke Hum bhi Dekhenge Nazm Faiz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے!

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے!

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

اور اہلِ حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی!

جب ارضِ خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہلِ صفا مردودِ حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے!

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے!

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی!

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلقِ خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!

ہم دیکھیں گے!

Hum Dekhenge

Laazim Hai Ke Hum Bhi Dekhenge!

Woh Din Ke Jis Ka Waada Hai

Jo Lauh-e-Azal Pe Likha Hai!

Jab Zulm-o-Sitam Ke Koh-e-Giraan

Ruyi Ki Tarah Ud Jaayenge!

Hum Mahkoomon Ke Paaon Tale

Jab Dharti Dhad Dhad Dhadke Gi

Aur Ahl-e-Hukm Ke Sar Oopar

Jab Bijli Kad Kad Kadke Gi!

Jab Arz-e-Khuda Ke Kaabe Se

Sab But Uthwaaye Jaayenge

Hum Ahl-e-Safa Mardood-e-Haram

Masnad Pe Bithaaye Jaayenge!

Sab Taaj Uchhaale Jaayenge

Sab Takht Giraaye Jaayenge!

Bas Naam Rahe Ga Allah Ka

Jo Ghaa'ib Bhi Hai Haazir Bhi

Jo Manzar Bhi Hai Naazir Bhi!

Uthe Ga Anal-Haq Ka Naara

Jo Main Bhi Hoon Aur Tum Bhi Ho

Aur Raaj Kare Gi Khalq-e-Khuda

Jo Main Bhi Hoon Aur Tum Bhi Ho!

Hum Dekhenge!

نظم Urdu
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے