فہمیدہ ریاض

Fahmida Riaz

Modern
28 جولائی 1945-21 نومبر 2018 میرٹھ / حیدرآباد (سندھ) / کراچی / لاہور, پاکستان
فہمیدہ ریاض (28 جولائی 1945ء – 21 نومبر 2018ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید ترقی پسند تحریک، حقوقِ نسواں، انسانی آزادی اور بے باک شعری اظہار کی سب سے توانا اور انقلابی آواز مانی جاتی ہیں۔ آپ میرٹھ میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم حیدرآباد (سندھ) سے حاصل کی۔ فہمیدہ ریاض نے اپنی شاعری کے ذریعے عورت کے وجود، اس کے فطری جذبات، سماجی ناانصافیوں اور ریاستی جبر کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔ ان کے شعری مجموعے 'بدن دریدہ' نے قدامت پسند معاشرے میں زلزلہ برپا کر دیا اور اردو نسائی شاعری کو روایتی شرم و جھجھک سے نکال کر سچی حقیقت پسندی عطا کی۔ ان کی شہرۂ آفاق نظمیں 'چادر اور چار دیواری'، 'اپنا جرم ثابت ہے'، 'تم بالکل ہم جیسے نکلے' اور 'آؤ ہم وہاں چلیں' پورے برصغیر میں گونجتی ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance - 2010ء) اور اکادمی ادبیات کے سب سے بڑے اعزاز 'کمالِ فن ایوارڈ' (2014ء) سے نوازا۔
صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم فہمیدہؔ تا کہ ہر مظلوم کے چہرے پہ مسکان کھل سکے سدا
Subh-e-Nau Ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Fahmida Ta Ke Har Mazloom Ke Chehre Pe Muskaan Khil Sake Sada
تفصیل دیکھیں »
یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے فخر کے ساتھ جس پر لکھی ہے انسانی آزادی کی داستان سدا
Yeh Zindagi Jo Hum Ne Jeeli Hai Fakhr Ke Saath Jis Par Likhi Hai Insaani Aazaadi Ki Daastaan Sada
تفصیل دیکھیں »
خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے کہ روح کی صدا کو دبایا نہیں جا سکتا سدا
Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai Ke Rooh Ki Sada Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada
تفصیل دیکھیں »
بدن دریدہ سہی پر روح تو پاک ہے اپنی جس نے زمانے کے ہر ستم کو مات دی ہے
Badan Dareeda Sahi Par Rooh To Paak Hai Apni Jis Ne Zamane Ke Har Sitam Ko Maat Di Hai
تفصیل دیکھیں »
ہم نے ہر دور میں سچ بولنے کی قسم کھائی ہے فہمیدہؔ چاہے دار و رسن ہی اپنا مقدر کیوں نہ بنے سدا
Hum Ne Har Daur Mein Sach Bolne Ki Qasam Khayi Hai Fahmida Chaahe Daar-o-Rasan Hi Apna Muqaddar Kyon Na Bane Sada
تفصیل دیکھیں »
پربھو! مرے سر پہ یہ میلی چادر کیوں تانی ہے یہ چادر نہیں ہے یہ تو قید ہے!
Prabhu! Mere Sar Pe Yeh Maili Chadar Kyon Taani Hai Yeh Chadar Nahin Hai Yeh To Qaid Hai!
تفصیل دیکھیں »
اپنا جرم ثابت ہے کہ ہم نے سچائی کا پرچم اٹھایا تھا اور ظلم کے اندھیروں کے آگے سر نہیں جھکایا تھا
Apna Jurm Saabit Hai Ke Hum Ne Sacchayi Ka Parcham Uthaaya Tha Aur Zulm Ke Andheron Ke Aage Sar Nahin Jhukaaya Tha
تفصیل دیکھیں »
تم بالکل ہم جیسے نکلے اب تک کہاں چھپے تھے بھائی وہ مورکھتا، وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی
Tum Bilkul Hum Jaise Nikle Ab Tak Kahan Chhupe The Bhai Woh Moorkhta, Woh Ghaamad-Pan Jis Mein Hum Ne Sadi Ganwaayi
تفصیل دیکھیں »