شاعری ہب / غزل / صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

Subh-e-Nou ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Fahmida

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم فہمیدہؔ

تا کہ ہر مظلوم کے چہرے پہ مسکان کھل سکے سدا!

ہم نے تو اپنے قلم کو تلوار بنا رکھا ہے

تا کہ جہالت اور غربت کا اندھیرا مٹ سکے سدا!

فہمیدہؔ انقلاب کا یہ سویرا ضرور طلوع ہو گا

جس سے سارا جہان جگمگا سکے سدا!

Subh-e-Nau Ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Fahmida

Ta Ke Har Mazloom Ke Chehre Pe Muskaan Khil Sake Sada!

Hum Ne To Apne Qalam Ko Talwaar Bana Rakha Hai

Ta Ke Jahaalat Aur Ghurbat Ka Andhera Mit Sake Sada!

غزل Urdu
Comment
فہمیدہ ریاض
تعارفِ شاعر

فہمیدہ ریاض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 28 جولائی 1945 — 21 نومبر 2018 📍 میرٹھ / حیدرآباد (سندھ) / کراچی / لاہور، پاکستان

فہمیدہ ریاض (28 جولائی 1945ء – 21 نومبر 2018ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید ترقی پسند تحریک، حقوقِ نسواں، انسانی آزادی اور بے باک شعری اظہار کی سب سے توانا اور انقلابی آواز مانی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے