شاعری ہب / نظم / دھوپ اور سایہ

دھوپ اور سایہ

Dhoop aur Saya Nazm Fahmida Riaz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھوپ کی تپش میں بھی ہم نے امید کا گلاب کھلایا

اور سائے کی تلاش میں نہیں بلکہ خود کو شجر بنایا!

ہم نے تو اپنے لہو سے سینچا ہے اس دھرتی کو

تا کہ آنے والی نسلوں کا مقدر سنور سکے!

فہمیدہؔ عزم و ہمت کی یہ داستان سدا امر رہے گی

جس نے تاریک راہوں کو روشن بنایا!

Dhoop Ki Tapish Mein Bhi Hum Ne Umeed Ka Gulaab Khilaaya

Aur Saaye Ki Talaash Mein Nahin Balke Khud Ko Shajar Banaya!

Hum Ne To Apne Lahoo Se Seencha Hai Is Dharti Ko

Ta Ke Aane Wali Naslon Ka Muqaddar Sanwar Sake!

نظم Urdu
Comment
فہمیدہ ریاض
تعارفِ شاعر

فہمیدہ ریاض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 28 جولائی 1945 — 21 نومبر 2018 📍 میرٹھ / حیدرآباد (سندھ) / کراچی / لاہور، پاکستان

فہمیدہ ریاض (28 جولائی 1945ء – 21 نومبر 2018ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید ترقی پسند تحریک، حقوقِ نسواں، انسانی آزادی اور بے باک شعری اظہار کی سب سے توانا اور انقلابی آواز مانی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے