شاعری ہب / غزل / وہ ملے بھی تو اک داستان بن کر

وہ ملے بھی تو اک داستان بن کر

Woh Mile bhi to Ik Dastaan Ban Kar Fahmida

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ ملے بھی تو اک داستان بن کر ملے ہم سے

جن کے ساتھ ہم نے فکری سفر طے کیا تھا سدا!

ہم نے تو اپنے اصولوں پہ کبھی سمجھوتہ نہ کیا

اور خودداری کو ہی اپنا تاج بنائے رکھا سدا!

فہمیدہؔ وقارِ ذات ہی سب سے بڑی شے ہے

جسے ہم نے ہر طوفان میں سنبھالے رکھا سدا!

Woh Mile Bhi To Ik Daastaan Ban Kar Mile Hum Se

Jin Ke Saath Hum Ne Fikri Safar Tay Kiya Tha Sada!

Hum Ne To Apne Usoolon Pe Kabhi Samjhauta Na Kiya

Aur Khuddaari Ko Hi Apna Taaj Banaye Rakha Sada!

غزل Urdu
Comment
فہمیدہ ریاض
تعارفِ شاعر

فہمیدہ ریاض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 28 جولائی 1945 — 21 نومبر 2018 📍 میرٹھ / حیدرآباد (سندھ) / کراچی / لاہور، پاکستان

فہمیدہ ریاض (28 جولائی 1945ء – 21 نومبر 2018ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید ترقی پسند تحریک، حقوقِ نسواں، انسانی آزادی اور بے باک شعری اظہار کی سب سے توانا اور انقلابی آواز مانی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے