شاعری ہب / شعر / خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Sher Fahmida

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے

کہ روح کی صدا کو دبایا نہیں جا سکتا سدا

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai

Ke Rooh Ki Sada Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada

شعر Urdu
Comment
فہمیدہ ریاض
تعارفِ شاعر

فہمیدہ ریاض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 28 جولائی 1945 — 21 نومبر 2018 📍 میرٹھ / حیدرآباد (سندھ) / کراچی / لاہور، پاکستان

فہمیدہ ریاض (28 جولائی 1945ء – 21 نومبر 2018ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید ترقی پسند تحریک، حقوقِ نسواں، انسانی آزادی اور بے باک شعری اظہار کی سب سے توانا اور انقلابی آواز مانی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے