شاعری ہب / غزل / دل کے صحرا میں محبت کا دیا

دل کے صحرا میں محبت کا دیا

Dil ke Sahra mein Mohabbat ka Diya Fahmida

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کے صحرا میں محبت کا دیا جلائے رکھا ہم نے

تا کہ نفرتوں کے طوفان میں بھی پیار کی روشنی رہے سدا!

ہم نے تو دیکھا ہے انسانی رشتوں کی نزاکت کو

جہاں خلوص اور وفا ہی سب سے بڑی خوشبو رہے سدا!

فہمیدہؔ پیار کا یہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹ سکے گا

جس سے ہر دل میں امن کا نغمہ رہے سدا!

Dil Ke Sehra Mein Mohabbat Ka Diya Jalaaye Rakha Hum Ne

Ta Ke Nafraton Ke Toofaan Mein Bhi Pyaar Ki Roshni Rahe Sada!

Hum Ne To Dekha Hai Insaani Rishton Ki Nazaakat Ko

Jahan Khaloos Aur Wafa Hi Sab Se Badi Khushboo Rahe Sada!

غزل Urdu
Comment
فہمیدہ ریاض
تعارفِ شاعر

فہمیدہ ریاض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 28 جولائی 1945 — 21 نومبر 2018 📍 میرٹھ / حیدرآباد (سندھ) / کراچی / لاہور، پاکستان

فہمیدہ ریاض (28 جولائی 1945ء – 21 نومبر 2018ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید ترقی پسند تحریک، حقوقِ نسواں، انسانی آزادی اور بے باک شعری اظہار کی سب سے توانا اور انقلابی آواز مانی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے