شاعری ہب / غزل / یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے

یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے

Yeh Zindagi Jo Hum Ne Jeeli Hai Fahmida Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے فخر کے ساتھ

جس پر لکھی ہے انسانی آزادی کی داستان سدا!

ہم نے تو اپنے خوابوں کو لفظوں کی شمشیر بنا دیا

جس نے اندھیروں کے سینے کو چاک کیا ہے سدا!

فہمیدہؔ ترقی پسندی کا یہ نغمہ سدا گونجے گا

جس نے دلوں کو آزادی کا احساس دیا ہے سدا!

Yeh Zindagi Jo Hum Ne Jeeli Hai Fakhr Ke Saath

Jis Par Likhi Hai Insaani Aazaadi Ki Daastaan Sada!

Hum Ne To Apne Khwabon Ko Lafzon Ki Shamsheer Bana Diya

Jis Ne Andheron Ke Seene Ko Chaak Kiya Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
فہمیدہ ریاض
تعارفِ شاعر

فہمیدہ ریاض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 28 جولائی 1945 — 21 نومبر 2018 📍 میرٹھ / حیدرآباد (سندھ) / کراچی / لاہور، پاکستان

فہمیدہ ریاض (28 جولائی 1945ء – 21 نومبر 2018ء) اردو ادب کی تاریخ میں جدید ترقی پسند تحریک، حقوقِ نسواں، انسانی آزادی اور بے باک شعری اظہار کی سب سے توانا اور انقلابی آواز مانی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے