شاعری ہب / نظم / محبت گولیوں سے بو رہے ہو

محبت گولیوں سے بو رہے ہو

Mohabbat Goliyon se Bo Rahe Ho

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

محبت گولیوں سے بو رہے ہو

وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو

گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

جو اپنے ہی بھائیوں پر گولیاں چلائے

وہ نفرتوں کے بیج ہی بو رہے ہو

عوام کے دلوں کو تم جیت نہ سکے

ستم کے مقتل میں اب رو رہے ہو

جالبؔ یہ خونِ ناحق پکارے گا کل

کہ تم اپنی تباہی خود ہی کھو رہے ہو

Mohabbat golion se Boo rhey ho

Vatan ka Chehra Khoon se dho rhey ho

Gman tum ko ke Rasta kat Raha hai

Yaqeen mujh ko ke Manzil Kho rhey ho

Jo Apne hi bhaeion par golian Chalae

Woh Nafraton ke Beej hi Boo rhey ho

Avam ke Dilon ko tum Jeet na skey

Sitam ke maqtal mein ab ro rhey ho

Jalb yeh khoon-e nahq Pukare Ga kal

Ke tum Apni Tabaahi Khud hi Kho rhey ho

نظم
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے