جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، الزائمر کے مریض اچانک کمرے میں بے چین ہو کر ٹہلنے لگتے ہیں، شور مچاتے ہیں یا گھر جانے کی ضد کرتے ہیں۔ جانیے اس پراسرار سن ڈاؤننگ کیفیت کو سنبھالنے کے طریقے…
سن ڈاؤننگ سنڈروم کیا ہے؟
سن ڈاؤننگ (Sundowning) الزائمر اور ڈیمنشیا کے مریضوں میں ایک عام کیفیت ہے جس میں شام کے سائے گہرے ہوتے ہی ان کے مزاج میں شدید ہیجان، خوف، غصہ اور الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔ دن کے وقت بالکل پرسکون رہنے والا مریض مغرب کے بعد بالکل مختلف انسان بن جاتا ہے۔
شام کے وقت بے چینی بڑھنے کے اسباب
اس کے پیچھے چند بنیادی حیاتیاتی عوامل کارفرما ہیں:
- دماغ کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی (Circadian Rhythm) میں خرابی جس سے شام کے وقت دماغی تھکن عروج پر ہوتی ہے۔
- کمرے میں گہرے سائے بننا جنہیں مریض غیر حقیقی اشکال یا سائے سمجھ کر ڈر جاتا ہے۔
- شام کے وقت گھر میں ہونے والی معمول کی ہلچل اور آوازیں مریض کے حواس پر بوجھ بنتی ہیں۔
سن ڈاؤننگ پر قابو پانے کے 4 گھریلو اصول
مغرب سے آدھا گھنٹہ قبل یہ اقدامات کریں:
- سورج غروب ہونے سے پہلے ہی کمرے کی کھڑکیاں بند کر کے تمام تیز دودھیا بتیاں جلا دیں تاکہ اندر اندھیرا نہ پھیلے۔
- شام کے وقت مریض کو پرسکون اور دھیمی آواز میں تلاوت یا ان کی پسند کی موسیقی سنائیں۔
- دوپہر 3 بجے کے بعد انہیں چائے، کافی یا میٹھا ہرگز نہ دیں کیونکہ یہ شام کو بے چینی بڑھاتے ہیں۔
- ان کا ہاتھ تھام کر دھیمی واک کروائیں یا نرمی سے ان کے ماتھے پر مساج کریں۔
جب وہ 'مجھے گھر جانا ہے' کی ضد کریں تو کیا کہیں؟
کبھی یہ نہ کہیں کہ 'یہ آپ ہی کا گھر ہے آپ بھول گئے ہیں'، کیونکہ اس سے ان کا خوف بڑھتا ہے۔ اس کے بجائے کہیں: 'جی بالکل، رات ہو گئی ہے، چائے پی کر صبح سویرے ہم گھر چلیں گے'۔ اس تائید سے ان کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
