ہمارے معاشرے میں وصیت لکھنے کو موت کی پیشگوئی یا نحوست سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بزرگ کے بعد اولاد عدالتوں کے چکر کاٹتی ہے اور خونی رشتے دشمن بن جاتے ہیں۔ ایک باوقار بزرگ کی سب سے بڑی دانشمندی اپنی زندگی میں تمام معاملات کو شفاف اور دستاویزی بنانا ہے۔
وصیت اور جائیداد کی ۵ بنیادی شرعی اور قانونی باتیں
- ایک تہائی (1/3) سے زیادہ وصیت نہیں ہو سکتی: شریعت کے مطابق انسان اپنے ترکے کے ایک تہائی حصے میں خیرات یا غیر وارث کے لیے وصیت کر سکتا ہے، وارثوں کے لیے وراثت کے شرعی حصے مقرر ہیں۔
- بینک کھاتوں میں نامزدگی (Nominee / Next of Kin): بزرگ کے تمام بینک اکاؤنٹس اور قومی بچت سرٹیفکیٹس میں نامینیشن اپ ڈیٹ ہونی چاہیے تاکہ بعد میں فنڈز منجمد نہ ہوں۔
- قرض اور امانتوں کی باقاعدہ ڈائری: بزرگ پر کسی کا کتنا قرض ہے یا انہوں نے کس سے کیا لینا ہے، یہ تحریری شکل میں گھر کے سمجھدار فرد کے علم میں ہونا چاہیے۔
- بچوں میں زندگی میں جائیداد کی مساوی تقسیم: اگر بزرگ زندگی میں اولاد کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو تمام بیٹوں اور بیٹیوں میں برابری اور عدل کے ساتھ دیں تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
