فالج کے حملے کے بعد کا پہلا ایک سال مریض کی زندگی بحال کرنے کے لیے سنہری دور (Golden Period) ہوتا ہے۔ جانیے روزمرہ اسٹریچنگ، گفتگو کی بحالی اور مریض کے اعتماد کو جگانے کا سائنسی طریقہ۔
فالج کے بعد دماغ کی دوبارہ سیکھنے کی صلاحیت (Neuroplasticity)
جب دماغ کے کسی حصے میں خون کا لوتھڑا جمنے سے فالج ہوتا ہے تو جسم کا ایک حصہ مفلوج ہو جاتا ہے۔ تاہم انسانی دماغ میں نیوروپلاسٹسٹی کی کمال صلاحیت موجود ہے، جس کے تحت دماغ کے صحت مند خلیات متاثرہ حصے کا کام سنبھال سکتے ہیں، بشرطیکہ روزانہ مسلسل مشق کروائی جائے۔
گھر پر روزانہ فزیوتھراپی کے بنیادی اصول
مفلوج حصے کو بالکل بے جان چھوڑنے سے پٹھے مستقل سکڑ جاتے ہیں:
- متاثرہ بازو اور ٹانگ کو دن میں 3 بار نرمی سے سیدھا اور موڑ کر حرکت دیں (Passive ROM Exercises)۔
- نرم اسفنج کی گیند ہاتھ میں دے کر دبانے کی مشق کروائیں تاکہ انگلیوں کی گرفت واپس آئے۔
- بیڈ پر کروٹیں بدلنے کی مشق کروائیں تاکہ بستر کے زخم (بیڈ سورز) نہ بنیں۔
گفتگو اور بول چال کی بحالی (Speech Therapy)
اگر فالج کے بعد بولنے میں لکنت یا آواز بند ہو جائے تو:
- ان سے آمنے سامنے بیٹھ کر چھوٹے الفاظ بولیں اور تصویریں دکھا کر نام دہرانے کو کہیں۔
- منہ میں پانی کا گھونٹ نگلنے کی مشق کروائیں کیونکہ فالج میں نگلنے کی نالی بھی کمزور ہو سکتی ہے۔
- کبھی ان کی بات ادھوری نہ کاٹیں اور نہ ہی ان کے متبادل خود بولنے لگیں، انہیں بولنے کا پورا موقع دیں۔
نفسیاتی حوصلہ افزائی کا معجزہ
فالج کے مریض شدید ڈپریشن اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ بوجھ بن گئے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی پیشرفت (جیسے انگلی کا ہلنا یا چمچ پکڑنا) پر بھی بھرپور خوشی منائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ وہ ہمارے لیے نعمت ہیں۔
