شاعری ہب / غزل / بہار آئی ہے پھر گلشن میں

بہار آئی ہے پھر گلشن میں

Bahaar Aayi Hai Phir Gulshan mein Aatish Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بہار آئی ہے پھر گلشن میں نیا رنگ لیے

پھول کھلنے لگے ہیں نیا سنگ لیے!

ہم نے تو لٹائی ہے نغمگی ترے واسطے

اور دل کے تاروں کو چھیڑا ہے نیا امنگ لیے!

آتشؔ غزل کی آبرو سدا قائم رہے گی

جسے ہر دور نے پڑھا ہے نیا ڈھنگ لیے!

Bahaar Aayi Hai Phir Gulshan Mein Naya Rang Liye

Phool Khilne Lage Hain Naya Sang Liye!

Hum Ne To Lutayi Hai Naghmagi Tere Waaste

Aur Dil Ke Taaron Ko Chheda Hai Naya Umang Liye!

غزل Urdu
Comment
خواجہ حیدر علی آتش
تعارفِ شاعر

خواجہ حیدر علی آتش

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1778 — 1846 📍 فیض آباد / لکھنؤ، ہندوستان

خواجہ حیدر علی آتشؔ (1778ء – 1846ء) دبستانِ لکھنؤ کے سب سے عظیم غزل گو، قلندر صفت استادِ سخن اور 'مرصع سازِ کلام' مانے جاتے ہیں۔ آپ فیض آباد (اودھ، بھارت) میں پیدا ہوئے اور...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے