شاعری ہب / غزل / آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے

آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے

Aaye bhi Log Baithe bhi Uth bhi Khade Hue Ghazal Aatish

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے

میں جا ہی ڈھونڈتا تری محفل میں رہ گیا!

سب چلے گئے اپنے اپنے گھروں کو شادماں

اور میں دلِ فگار لیے کوچے میں رہ گیا!

آتشؔ محبت کا یہ صلہ کیسا ملا ہمیں

کہ حسرتوں کا داغ ہی سینے میں رہ گیا!

Aaye Bhi Log, Baithe Bhi, Uth Bhi Khade Hue

Main Jaa Hi Dhoondta Teri Mehfil Mein Reh Gaya!

Sab Chale Gaye Apne Apne Gharon Ko Shaadmaan

Aur Main Dil-e-Figaar Liye Kooche Mein Reh Gaya!

غزل Urdu
Comment
خواجہ حیدر علی آتش
تعارفِ شاعر

خواجہ حیدر علی آتش

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1778 — 1846 📍 فیض آباد / لکھنؤ، ہندوستان

خواجہ حیدر علی آتشؔ (1778ء – 1846ء) دبستانِ لکھنؤ کے سب سے عظیم غزل گو، قلندر صفت استادِ سخن اور 'مرصع سازِ کلام' مانے جاتے ہیں۔ آپ فیض آباد (اودھ، بھارت) میں پیدا ہوئے اور...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے