علی زریون
Ali Zaryoun
Classical
22 نومبر 1978-?
فیصل آباد / لاہور, پاکستان
علی زریون (پیدائش: 22 نومبر 1978ء، فیصل آباد، پنجاب) معاصر اردو اور پنجابی شاعری کے سب سے منفرد، فلسفیانہ، باغیانہ اور ہر دلعزیز لب و لہجے کے سرخیل مانے جاتے ہیں۔ ان کے کلام میں انسانی نفسیات، برابری، وجودی فلسفے، تصوف اور سچی رومانیت کا وہ بے باک امتزاج ملتا ہے جس نے پاکستان، بھارت، خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ کے کروڑوں شائقینِ شعر کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ علی زریون کے شاہکار اشعار جیسے 'تم جسے رو رہی ہو وہ مرا عشق تھا / تم جسے کھو چکی ہو وہ میں ہی تو تھا' اور 'ہمارے کچھ گناہوں کی سزا ہے / محبت ہو گئی ہے اور کیا ہے' عالمی مشاعروں اور سوشل میڈیا پر بے پناہ وائرل اور مقبول عام ہیں۔ آپ اردو شاعری کو روایتی جمود سے نکال کر زندگی کی تلخ اور خوبصورت حقیقتوں سے جوڑنے والے صفِ اول کے شاعر ہیں۔
علیؔ خودداری اور سچ کا مسافر ہے سدا
جو جھوٹی بزم میں سجدہ نہیں کرتا کبھی
Ali Khuddaari Aur Sach Ka Musaafir Hai Sada
Jo Jhoothi Bazm Mein Sajda Nahin Karta Kabhi
محبت میں منافقت کو چھوڑ دو یارو
جسے بھی چاہو دل کی گہرائی سے چاہو
Mohabbat Mein Munaafaqat Ko Chhod Do Yaaro
Jise Bhi Chaaho Dil Ki Gehraayi Se Chaaho
ہم نے تو اپنی ذات کو تماشا بنا دیا
تا کہ زمانے کو سچی محبت کی پہچان ہو سکے
Hum Ne To Apni Zaat Ko Tamaasha Bana Diya
Ta Ke Zamane Ko Sacchi Mohabbat Ki Pehchaan Ho Sake
یہ دل جو اک مندر کی طرح پاک ہے سدا
جہاں صرف سچائی کی مورتی سجتی ہے سدا
Yeh Dil Jo Ik Mandir Ki Tarah Paak Hai Sada
Jahan Sirf Sacchayi Ki Moorti Sajti Hai Sada
ہمارے کچھ گناہوں کی سزا ہے
محبت ہو گئی ہے اور کیا ہے
Humare Kuchh Gunahon Ki Saza Hai
Mohabbat Ho Gayi Hai Aur Kya Hai
گلے ملتے ہوئے ہم نے یہ سوچا
بچھڑ جانے پہ کیا گزرے گی دل پر
Gale Milte Hue Hum Ne Yeh Socha
Bichhad Jaane Pe Kya Guzre Gi Dil Par
تمہیں جب مجھ سے الفت ہی نہیں ہے
تو پھر مجھ سے یہ نفرت بھی فضول ہے
Tumhein Jab Mujh Se Ulfat Hi Nahin Hai
To Phir Mujh Se Yeh Nafrat Bhi Fuzool Hai
تم جسے رو رہی ہو وہ مرا عشق تھا
تم جسے کھو چکی ہو وہ میں ہی تو تھا
Tum Jise Ro Rahi Ho Woh Mera Ishq Tha
Tum Jise Kho Chuki Ho Woh Main Hi To Tha
