شاعری ہب / غزل / یہ دل جو ایک مندر کی طرح ہے

یہ دل جو ایک مندر کی طرح ہے

Yeh Dil Jo Ek Mandir ki Tarah Hai Ghazal Zaryoun

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ دل جو ایک مندر کی طرح ہے

یہاں سچائی کی مورتی سجی ہے سدا!

ہم نے تو اپنے رب کو پایا ہے دل میں

جہاں انسان سے محبت ہی بندگی ہے سدا!

منافقت اور جھوٹ کے بازار سے دور

ہماری شاعری پاک روشنی ہے سدا!

علیؔ صوفیانہ یہ بانکپن سدا رہے گا

جس سے دلوں کی بستی مہکی ہے سدا!

Yeh Dil Jo Ek Mandir Ki Tarah Hai

Yahan Sacchayi Ki Moorti Saji Hai Sada!

Hum Ne To Apne Rab Ko Paaya Hai Dil Mein

Jahan Insaan Se Mohabbat Hi Bandagi Hai Sada!

Munaafaqat Aur Jhooth Ke Bazaar Se Door

Hamari Shaaeri Paak Roshni Hai Sada!

Ali Soofiyaana Yeh Baankpan Sada Rahe Ga

Jis Se Dilon Ki Basti Mehki Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
علی زریون
تعارفِ شاعر

علی زریون

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 نومبر 1978 📍 فیصل آباد / لاہور، پاکستان

علی زریون (پیدائش: 22 نومبر 1978ء، فیصل آباد، پنجاب) معاصر اردو اور پنجابی شاعری کے سب سے منفرد، فلسفیانہ، باغیانہ اور ہر دلعزیز لب و لہجے کے سرخیل مانے جاتے ہیں۔ ان کے کلام میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے