شاعری ہب / غزل / ہمارے کچھ گناہوں کی سزا ہے

ہمارے کچھ گناہوں کی سزا ہے

Humare Kuchh Gunahon ki Saza Hai Ghazal Zaryoun

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہمارے کچھ گناہوں کی سزا ہے

محبت ہو گئی ہے اور کیا ہے!

نہ پوچھو ہم سے اس دل کی کہانی

یہ اک بستی تھی جو اجڑ گئی ہے!

ہمیں تو اپنے جذبوں پہ یقیں ہے

زمانہ گر مخالف ہو چکا ہے!

علیؔ سچ بولنے کی یہ سزا ہے

کہ ہر اک شخص اب نالاں ہوا ہے!

Humare Kuchh Gunahon Ki Saza Hai

Mohabbat Ho Gayi Hai Aur Kya Hai!

Na Poochho Hum Se Is Dil Ki Kahaani

Yeh Ik Basti Thi Jo Ujad Gayi Hai!

Humein To Apne Jazbon Pe Yaqeen Hai

Zamana Gar Mukhaalif Ho Chuka Hai!

Ali Sach Bolne Ki Yeh Saza Hai

Ke Har Ik Shakhs Ab Naalaan Hua Hai!

غزل Urdu
Comment
علی زریون
تعارفِ شاعر

علی زریون

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 نومبر 1978 📍 فیصل آباد / لاہور، پاکستان

علی زریون (پیدائش: 22 نومبر 1978ء، فیصل آباد، پنجاب) معاصر اردو اور پنجابی شاعری کے سب سے منفرد، فلسفیانہ، باغیانہ اور ہر دلعزیز لب و لہجے کے سرخیل مانے جاتے ہیں۔ ان کے کلام میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے