شاعری ہب / غزل / گلے ملتے ہوئے ہم نے یہ سوچا

گلے ملتے ہوئے ہم نے یہ سوچا

Gale Milte Hue Hum Ne Yeh Socha Ghazal Zaryoun

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گلے ملتے ہوئے ہم نے یہ سوچا

بچھڑ جانے پہ کیا گزرے گی دل پر!

یہ وصلِ یار کی کیسی گھڑی ہے

کہ ہر لمحہ جدائی کا ڈر ہے!

ہمیں معلوم تھا انجامِ الفت

مگر اس دل پہ کس کا اب اثر ہے!

علیؔ دیوانگی کا یہ سفر ہے

جہاں منزل نہیں بس رہگزر ہے!

Gale Milte Hue Hum Ne Yeh Socha

Bichhad Jaane Pe Kya Guzre Gi Dil Par!

Yeh Wasl-e-Yaar Ki Kaisi Ghadi Hai

Ke Har Lamha Judaayi Ka Dar Hai!

Humein Maaloom Tha Anjaam-e-Ulfat

Magar Is Dil Pe Kis Ka Ab Asar Hai!

Ali Deewangi Ka Yeh Safar Hai

Jahan Manzil Nahin Bas Rahguzar Hai!

غزل Urdu
Comment
علی زریون
تعارفِ شاعر

علی زریون

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 نومبر 1978 📍 فیصل آباد / لاہور، پاکستان

علی زریون (پیدائش: 22 نومبر 1978ء، فیصل آباد، پنجاب) معاصر اردو اور پنجابی شاعری کے سب سے منفرد، فلسفیانہ، باغیانہ اور ہر دلعزیز لب و لہجے کے سرخیل مانے جاتے ہیں۔ ان کے کلام میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے