شاعری ہب / نظم / زود پشیمان

زود پشیمان

Zuud Pashiimaan

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہ

دور دیس سے

چمکیلے مشکی گھوڑے پر ہوا سے باتیں کرتا

جگر جگر کرتی تلوار سے جنگل کاٹتا آیا

دروازوں سے لپٹی بیلیں پرے ہٹاتا

جنگل کی بانہوں میں جکڑے محل کے ہاتھ چھڑاتا

جب اندر آیا تو دیکھا

شہزادی کے جسم کی ساری سوئیاں زنگ آلودہ تھیں

رستہ دیکھنے والی آنکھیں

سارے شکوے بھلا چکی تھیں!

Gahri bhori Aankhon vala Ik shahzada

Door des se

Chmkile mshki Ghore par hua se Batein karta

Jigar jigar karti talwaar se jangal katta aaya

Darwazon se lpti bilin prey htata

Jangal ki Banhon mein jkrey mahal ke haath chhrata

Jab andar aaya to dekha

Shahzadi ke Jism ki Sari soian zaṅg aludah theen

Rasta Dekhne oali Aankhein

Sare Shikve bhla Chakki theen

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے