شاعری ہب / نظم / خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

Khud se Milne Kii Fursat Kise Thii

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اپنی پندار کی کرچیاں

چن سکوں گی

شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی

تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی

کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی

ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی

مرا حوصلہ

اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا

لیکن یہاں

خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!

Apni pndar ki krchian

Chun skon gi

Shksth aranon ke Toote hue par smiton gi

Tujh ko badan ki ijazat se rukhsat karoon gi

Kabhi Apne barey mein atni khabar hi na rkhi thi

Warna bchhrney ki yeh rasm kab ki Ada ho Chakki hoti

Mara hausala

Apne Dil par bahut qabl hi Munkashif ho gaya hota

Lekin yahan

Khud se mlney ki fursat ksey thi

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے