شاعری ہب / Kalam / یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

Yeh Hum Jo Hajr mein Deewar-o-Dar ko Dekhte Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو

یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں

ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں

Yeh hum jo hajr mein deewar-o-dar ko dekhte hain

Kabhi saba ko kabhi nama-bar ko dekhte hain

Woh aaye ghar mein hamare Khuda ki qudrat hai

Kabhi hum un ko kabhi apne ghar ko dekhte hain

Nazar lage na kahin us ke dast-o-bazu ko

Yeh log kyun mere zakhm-e-jigar ko dekhte hain

Tere jawaher-e-tarf-e-kulah ko kya dekhein

Hum auj-e-tali-e-laal-o-guhar ko dekhte hain

Kalam Urdu
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے