شاعری ہب / غزل / یاد کے بے نشاں جزیروں سے

یاد کے بے نشاں جزیروں سے

Yaad ke Be-Nishan Jazeeron se

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یاد کے بے نشاں جزیروں سے

تیری آواز آرہی ہے مجھے

دور ساحل پہ کوئی تنہا شخص

دیکھ کر ہاتھ ہلا رہا ہے مجھے

اب تو رستے بھی مٹ گئے سارے

کون پھر پاس بلا رہا ہے مجھے

اک حسیں خواب تھا جو بکھر گیا ہے

پھر بھی یہ دل جلا رہا ہے مجھے

Yaad Ke Be-Nishan Jazeeron Se

Teri Aawaz Aa Rahi Hai Mujhe

Door Sahil Pe Koi Tanha Shakhs

Dekh Kar Hath Hila Raha Hai Mujhe

غزل
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے