شاعری ہب / غزل / دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

Dhanak Dhanak Miri Poron ke Khvab Kar Dega

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا

کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں

بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے

وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ

سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم

سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی

تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا

Dhanak Dhanak Meri Poron Ke Khawab Kar De Ga

Woh Lams Mere Badan Ko Gulab Kar De Ga

Qaba-E-Jisam K Har Taar Se Guzarta Howa

Kiran Ka Pyar Mujhe Aftab Kar De Ga

Main Such Kahun Gi Magar Phir Bhi Har Jaun Gi

Woh Jhut Bole Ga Or La Jawab Kar De Ga

Ana Parst He Itna Keh Bat Se Pehle

Woh Uth K Band Meri Har Kitab Kar De Ga

Meri Tarha Se Koi He Jo Zindagi Apni

Tumhari Yad K Nam Intasab Kar De Ga

غزل Urdu
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے