شاعری ہب / غزل / مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

Mar bhi Jaun to Kahan Log Bhula hi Denge

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی

آج پیغام نیا ظل الٰہی دیں گے

جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار

جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی دیں گے

ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی

اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے

آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا

اہل کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے

شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے

تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے

Mar Bhi Jaon To Kahan Log Bhula Hi Den Gay

Lafz Mere, Mere Hone Ki Gawahi Den Gay

Log Thara Gaye Jis Waqt Manadi Aai

Aaj Paigham Nia Zil-E-Ilahi Den Gay

Jhonke Kuch Aise Thapakte Hain Gulon K Rukhsar

Jaise Is Bar To Patt Jhar Se Bacha Hi Den Gay

Hum Wo Shab Zad Keh Soraj Ki Anayaat Mein Bhi

Apne Bachon Ko Faqt Kowar Niga Hi Den Gay

Aasteen Sanpon Ki Pehnein Gay Gale Mein Maala

Ehl-E-Koofa Ko Nai Shehr Pana Hi Den Gay

Shehr Ki Chabian Aada Ky Hawale Kar Ky

Tuhftan Unhein Maqtool Sipahi Den Gay

غزل Urdu
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے