شاعری ہب / غزل / خوب روؤں سے وفا کا سلسلہ جاری رہا

خوب روؤں سے وفا کا سلسلہ جاری رہا

Khub-Roo-On se Wafa ka Silsila Jaari Raha Ghazal Majaz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خوب روؤں سے وفا کا سلسلہ جاری رہا

عمر بھر اس دل کو اک روگ لاحق ہی رہا!

ہم نے تو چاہا تھا چمن کو سجا کے رکھنا

پر خزاں کا ستم ہر سو طاری رہا!

مجازؔ اس عشق کے دریا میں سفینہ ڈوب گیا

جہاں ہر موڑ پر غم کا سمندر جاری رہا!

Khub-roo-on Se Wafa Ka Silsila Jaari Raha

Umr Bhar Is Dil Ko Ik Rog Laahaq Hi Raha!

Hum Ne To Chaaha Tha Chaman Ko Saja Ke Rakhna

Par Khizaan Ka Sitam Har Su Taari Raha!

غزل Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے