شاعری ہب / نظم / شعلۂ طور

شعلۂ طور

Shola-e-Toor Nazm Akhtar Shirani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شعلۂ طور ہے مری غزل کا ہر اک نغمہ

جس میں تپتے ہوئے جذبوں کی روشنی ہے!

ہم نے تو حسن و عشق کے گیت گائے ہیں سدا

جس سے زمانے کی ہر رات چمک اٹھی ہے!

اخترؔ نغمگی کا یہ دریا کبھی نہ تھمے گا

جس نے شاعری کے دامن کو سجائی ہے!

Shola-e-Toor Hai Meri Ghazal Ka Har Ik Naghma

Jis Mein Tapte Hue Jazbon Ki Roshni Hai!

Hum Ne To Husn-o-Ishq Ke Geet Gaaye Hain Sada

Jis Se Zamane Ki Har Raat Chamak Uthi Hai!

نظم Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے