شاعری ہب / نظم / شگون

شگون

Shuguun

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سات سہاگنیں اور میری پیشانی!

صندل کی تحریر

بھلا پتھر کے لکھے کو کیا دھوئے گی

بس اتنا ہے

جذبے کی پوری نیکی سے

سب نے اپنے اپنے خدا کا اسم مجھے دے ڈالا ہے

اور یہ سننے میں آیا ہے

شام ڈھلے جنگل کے سفر میں

اسم بہت کام آتے ہیں!

Saat shagnin aur Meri Peshani

Sandal ki tahrir

Bhla Patthar ke lkhey ko kiya dhoe gi

Bas Itna hai

Jzbey ki pori neki se

Sab Ne Apne Apne Khuda ka ism Mujhe de dala hai

Aur yeh Sunne mein aaya hai

Shaam dhley jangal ke Safar mein

Ism bahut Kaam aate hain

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے