شاعری ہب / نظم / ایک دوست کے نام

ایک دوست کے نام

Ek Dost ke Naam Ladkii

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لڑکی!

یہ لمحے بادل ہیں

گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے

ان کے لمس کو پیتی جا

قطرہ قطرہ بھیگتی جا

بھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہے

اور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہے

مجھ سے پوچھ

کہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوا

بال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!

Ladki

Yeh Lamhe Badal hain

Gazar gaye to haath kabhi nahin aayein Ge

Un ke lms ko Peeti ja

Qatra qatra bhigti ja

Bhigti ja to jab tak Un mein nam hai

Aur trey andar ki mitti Piyasi hai

Mujh se pochh

Ke Barish ko Waapas aaney ka Rasta kabhi na Yaad hua

Baal skhaney ke mausam Un Parh hotey hain

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے