شاید کہ چشم تر سے پکارا گیا تھا میں
Shayad ke Chashm-e-Tar se Pukara Gaya Tha Main
شاید کہ چشمِ تر سے پکارا گیا تھا میں
یا پھر ترے خیال سے گزارا گیا تھا میں
مجھ کو خبر نہ تھی کہ مری سمت آئے گی
جس سمت سے وہ تیر اتارا گیا تھا میں
اک موجِ درد تھی جو مجھے بہا لے گئی
ساحل پہ دیکھ کر ہی پکارا گیا تھا میں
Shayad Ke Chashm-e-Tar Se Pukara Gaya Tha Main
Ya Phir Tere Khayal Se Guzara Gaya Tha Main
Mujh Ko Khabar Na Thi Ke Meri Simt Aaye Gi
Jis Simt Se Woh Teer Utaran Gaya Tha Main
غزل
تعارفِ شاعر
پروین شاکر
پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...
