شاعری ہب / غزل / گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا

Gavahi Kaise Tutti Muamla Khuda ka Tha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا

مرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا

گلاب قیمت شگفت شام تک چکا سکے

ادا وہ دھوپ کو ہوا جو قرض بھی صبا کا تھا

بکھر گیا ہے پھول تو ہمیں سے پوچھ گچھ ہوئی

حساب باغباں سے ہے کیا دھرا ہوا کا تھا

لہو چشیدہ ہاتھ اس نے چوم کر دکھا دیا

جزا وہاں ملی جہاں کہ مرحلہ سزا کا تھا

جو بارشوں سے قبل اپنا رزق گھر میں بھر چکا

وہ شہر مور سے نہ تھا پہ دوربیں بلا کا تھا

Goahi kaise totti Maamla Khuda ka tha

Mara aur Is ka rabita to haath aur Dua ka tha

Gulab qeemat shgft Shaam tak chka skey

Ada woh dhoop ko hua jo qarz bhi Saba ka tha

Bkhr gaya hai Phool to Hamen se pochh gchh hui

Hisab baghban se hai kiya dhra hua ka tha

Lahu Chasheeda haath Is Ne Choom kar dkha diya

Jza wahan malli jahan ke mrhlh Saza ka tha

Jo Barishon se qabl Apna rizq ghar mein bhr chka

Woh Shehar moor se na tha pe dorbin bala ka tha

غزل Urdu
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے