شاعری ہب / نظم / سليمی

سليمی

Saleemi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جس کي نمود ديکھي چشم ستارہ بيں نے

خورشيد ميں ، قمر ميں ، تاروں کي انجمن ميں

صوفي نے جس کو دل کے ظلمت کدے ميں پايا

شاعر نے جس کو ديکھا قدرت کے بانکپن ميں

جس کي چمک ہے پيدا ، جس کي مہک ہويدا

شبنم کے موتيوں ميں ، پھولوں کے پيرہن ميں

صحرا کو ہے بسايا جس نے سکوت بن کر

ہنگامہ جس کے دم سے کاشانہ چمن ميں

ہر شے ميں ہے نماياں يوں تو جمال اس کا

آنکھوں ميں ہے سليمي تيري کمال اس کا

Jis k nmod dkh Chashm Sitara bn Ne

Khorshd mn qamar mn Taron k anjuman mn

Sof Ne Jis ko Dil ke zlmt kdey mn paa

Shair Ne Jis ko dkha Qudrat ke bankpn mn

Jis k Chamak hai pda Jis k mahak hoda

Shabnam ke moton mn Phoolon ke prhn mn

Sehra ko hai bsaa Jis Ne sukoot ban kar

Hngamh Jis ke dam se kashanh Chaman mn

Har shai mn hai nmaan on to Jamal Is ka

Aankhon mn hai slm tr Kamal Is ka

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے