شاعری ہب / غزل / تخت ہے اور کہانی ہے وہی

تخت ہے اور کہانی ہے وہی

Takht Hai aur Kahani Hai Wohi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تخت ہے اور کہانی ہے وہی

اور سازش بھی پرانی ہے وہی

قاضیِ شہر نے قبلہ بدلا

لیک خطبے میں روانی ہے وہی

خیمہ کش اب کے ذرا دیکھ کے ہو

جس پہ پہرہ تھا، یہ پانی ہے وہی

صلح کو فسخ کیا دل میں مگر

اب بھی پیغام زبانی ہے وہی

آج بھی چہرۂ خورشید ہے زرد

آج بھی شام سہانی ہے وہی

بدلے جاتے ہیں یہاں روز طبیب

اور زخموں کی کہانی ہے وہی

حجلۂ غم یونہی آراستہ ہے

دل کی پوشاک شہانی ہے وہی

شہر کا شہر یہاں ڈوب گیا

اور دریا کی روانی ہے وہی

Takht hai aur Kahani hai vahi

Aur sazish bhi prani hai vahi

Qazi-e Shehar Ne qibla bdla

Lik Khatbe mein roani hai vahi

Khaima ksh ab ke zara dekh ke ho

Jis pe Pahra tha yeh paani hai vahi

Slh ko fskh kiya Dil mein magar

Ab bhi Paigham zbani hai vahi

Aaj bhi chhr-e khorshid hai zard

Aaj bhi Shaam shani hai vahi

Bdley jaate hain yahan Roz tabib

Aur zkhmon ki Kahani hai vahi

Hjl-e Gham Yunhi aarasth hai

Dil ki poshak shhani hai vahi

Shehar ka Shehar yahan dob gaya

Aur Darya ki roani hai vahi

غزل
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے