راستے میں بیٹھ کر رونا بھی مشکل ہو گیا
Raste mein Baith Kar Rona bhi Mushkil Ho Gaya
راستے میں بیٹھ کر رونا بھی مشکل ہو گیا
اپنے ہی اشکوں کو اب دھونا بھی مشکل ہو گیا
دل کی ویرانی کا یہ عالم ہے اب تو دوستو
اس بھری دنیا میں تنہا ہونا بھی مشکل ہو گیا
ایک مدت سے نہیں سوئی ہیں میری آنکھیں
تیری یادوں کے بنا سونا بھی مشکل ہو گیا
Raste Mein Baith Kar Rona Bhi Mushkil Ho Gaya
Apne Hi Ashkon Ko Ab Dhona Bhi Mushkil Ho Gaya
Dil Ki Weerani Ka Yeh Aalam Hai Ab To Dosto
Is Bhari Duniya Mein Tanha Hona Bhi Mushkil Ho Gaya
غزل
تعارفِ شاعر
پروین شاکر
پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...
