شاعری ہب / نظم / مناصب

مناصب

Manaasib

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہوا ہے بندۂ مومن فسونیٔ افرنگ

اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نمناک

ترے بلند مناصب کی خیر ہو یارب

کہ ان کے واسطے تو نے کیا خودی کو ہلاک

مگر یہ بات چھپائے سے چھپ ۔۔۔نہیں سکتی

سمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعت چالاک

شریک حکم غلاموں کو کر نہیں سکتے

خریدتے ہیں فقط ان کا جوہر ادراک

Huwa Hai Band-e-Momin Fusooni-e-Afrang

Issi Sabab Se Qalandar Ki Ankh Hai Namnaak

Tere Buland Munasib Ki Khair Ho, Ya Rab!!

Ke In Ke Waste Tu Ne Kiya Khudi Ko Halak

Magar Ye Baat Chupaye Se Chup Nahin Sakti

Samajh Gyi Hai Isse Har Tabiat-e-Chalak

Shareek-e-Hukm Ghulamon Ko Kar Nahin Sakte

Khareedte Hain Faqt Un Ka Johar-e-Idraak

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے