شاعری ہب / غزل / خطر ہے رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے

خطر ہے رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے

Khtr He Rshth-e Alft Rg Grdn Nh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خطر ہے رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے

غرورِ دوستی آفت ہے ، تو دشمن نہ ہو جائے

سمجھ اس فصل میں کوتاہیٔ نشو و نما ، غالبؔ!

اگر گل سرو کے قامت پہ ، پیراہن نہ ہو جائے

Khatar hai rsht-e- Ulfat rag-e gardan na ho jae

Ġurur-e Dosti afat hai to Dushman na ho jae

Samajh Is fasl mein kotahi nsho-o-nma ghalb

Agar Gul sro ke qamt pe Pairahan na ho jae

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے