شاعری ہب / غزل / میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی

میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی

Min Hon Mshtaq Jfa Mjh Ph Jfa

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی

تم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی

غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرتِ ماہ!

ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہوا، اور سہی

تم ہو بت، پھر تمھیں پندارِ خدائی کیوں ہے؟

تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی

Mein hoon mshtaq-e jfa mujh pe Jafa aur shi

Tum ho bidad se khosh Is se soa aur shi

Ghair ki marg ka Gham Kis liye aey ghairat-e Maah

Hain havas Pesha bht woh na hoa aur shi

Tum ho bt phir Tumhein pndar-e khdai kyun he

Tum khudavand hi khlao Khuda aur shi

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے