شاعری ہب / غزل / خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے

خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے

Khmoshion Min Tmasha Ada Nklti He

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے

نگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے

فشارِ تنگئ خلوت سے بنتی ہے شبنم

صبا جو غنچے کے پردے میں‌ جا نکلتی ہے

نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آبِ تیغِ نگاہ

کہ زخمِ روزنِ در سے ہوا نکلتی ہے

Khmoshion mein tamasha Ada nklti hai

Nigah Dil se tri srmh Sa nklti hai

Fshar-e taṅg-e khlot se banti hai shabnam

Saba jo ghnchey ke Parde mein ja nklti hai

Na pochh sinh Aashiq se ab-e teġ-e Nigah

Ke zakhm-e rauzan-e Dar se hua nklti hai

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے