شاعری ہب / غزل / گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا

Glh He Shoq ko Dl Min bhi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا

گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا

یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!

مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا

حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی

دوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کا

Gila hai Shoq ko Dil mein bhi taṅg-e ja ka

Ghr mein mho hua Iztiraab Darya ka

Yeh janta hoon ke to aur paskh-e mktob

Magar Sitam Zadah hoon zavq-e khamah frsa ka

Hnae pae Khizan hai Bahar Agar hai ihi

Doam-e klft-e khatir hai aish duniya ka

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے