شاعری ہب / غزل / بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو

بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو

Bhole se Kash Oh Adhr Aain to

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو

کیا لطف ہو جو ابلقِ دوراں بھی رام ہو

تا گردشِ فلک سے یوں ہی صبح و شام ہو

ساقی کی چشمِ مست ہو اور دورِ جام ہو

بے تاب ہوں بلا سے، کن آنکھوں سے دیکھ لیں

اے خوش نصیب! کاش قضا کا پیام ہو

Bholey se kash woh idhar aayein to Shaam ho

Kiya lut̤f ho jo ablaq-e doran bhi ram ho

Ta gardish-e Falak se Yun hi Subh-o-Shaam ho

Saaqi ki Chashm-e Mast ho aur door-e Jaam ho

Be tab hoon bala se Kun Aankhon se dekh lein

Aey Khush nasib kash qaza ka Payam ho

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے