شاعری ہب / غزل / جرمِ الفت کی سزا ہے کہ جفا ہے کیا ہے

جرمِ الفت کی سزا ہے کہ جفا ہے کیا ہے

Jurm-e-Ulfat ki Saza Hai ke Jafa Hai Kya Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جرمِ الفت کی سزا ہے کہ جفا ہے کیا ہے

زندگی درد کا بہتا ہوا دریا ہے کیا ہے

ہم تو سمجھے تھے محبت میں سکوں پائیں گے

یہ جو سینے میں اٹھا حشر بپا ہے کیا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بھلا بیٹھا ہے

پھر یہ دل رات گئے کس کو پکارا ہے کیا ہے

شہرِ دل میں تو بڑی دھوم سے آئے تھے وہ

اب جو ویران ہے ہر کوچہ تو کہتا ہے کیا ہے

ناصرؔ اب کچھ نہ کہو صبر کرو خاموشی سے

عشق کا کھیل ہی آغازِ فنا ہے کیا ہے

Jurm-e Ulfat ki Saza hai ke Jafa hai kiya hai

Zindagi Dard ka bhta hua Darya hai kiya hai

Hum to samjhe the Mohabbat mein skon pain Ge

Yeh jo Seene mein atha Hashr bpa hai kiya hai

Log kehte hain ke woh Shakhs bhla bitha hai

Phir yeh Dil Raat gaye Kis ko Pukara hai kiya hai

Shehar-e Dil mein to Bari dhum se aaye the woh

Ab jo viran hai Har Koocha to kehta hai kiya hai

Nasr ab Kuch na kaho sabr karo khamoshi se

Ishq ka khel hi Aaghaaz-e fna hai kiya hai

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے