شاعری ہب / غزل / تری زلفوں کے سائے میں ہوا بھی رک گئی جیسے

تری زلفوں کے سائے میں ہوا بھی رک گئی جیسے

Teri Zulfon ke Saaye mein Hawa bhi Ruk Gayi Jaise

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تری زلفوں کے سائے میں ہوا بھی رک گئی جیسے

اک اداسی سی مرے دل میں ٹھہر گئی جیسے

ہم نے تو مانگا تھا اک قطرہ ترے وصل کا بس

پر جدائی مری آنکھوں میں اتر گئی جیسے

ناصرؔ اس بزم میں جینے کا ہنر کون سکھائے

روشنی خواب کے پردے میں بکھر گئی جیسے

Teri Zulfon Ke Saaye Mein Hawa Bhi Ruk Gayi Jaise

Ik Udaasi Si Mere Dil Mein Thahar Gayi Jaise

Hum Ne To Maanga Tha Ik Qatra Tere Wasl Ka Bas

Par Judai Meri Aankhon Mein Utar Gayi Jaise

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے