شاعری ہب / غزل / کچھ تو کہیے کہ لوگ سنتے ہیں

کچھ تو کہیے کہ لوگ سنتے ہیں

Kuch to Kahiye ke Log Sunte Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کچھ تو کہیے کہ لوگ سنتے ہیں

ہم خموشی کے جال بنتے ہیں

کوئی نغمہ کوئی صدا دیجے

ہم ترے درد کے شناسا ہیں

شہرِ دل میں اداسی چھائی ہے

پھول بھی اب اداس کھلتے ہیں

راہ تکتے ہیں تیرے کوچے کی

کتنے سائے سرِ راہ ملتے ہیں

ناصرؔ اس بے دلی کے عالم میں

غم کے انگارے دل میں جلتے ہیں

Kuch to khiey ke Log sunte hain

Hum khmoshi ke jal bante hain

Koi naghma Koi sada dijey

Hum trey Dard ke shnasa hain

Shehar-e Dil mein udasi chhaei hai

Phool bhi ab udaas khltey hain

Raah tktey hain Tere kochey ki

Ktney sae sar-e Raah milte hain

Nasr Is be Dili ke Aalam mein

Gham ke angarey Dil mein jltey hain

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے