شاعری ہب / غزل / یہ شام اور ترا نام دونوں اداس ہیں

یہ شام اور ترا نام دونوں اداس ہیں

Ye Sham aur Tera Naam Dono Udas Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ شام اور ترا نام دونوں اداس ہیں

ہم بھی ترے بغیر ستم گاہ کے پاس ہیں

دیکھا ہے جب سے تو نے ہمیں بے رخی کے ساتھ

دل میں عجیب غم کے کئی التباس ہیں

ناصرؔ اداسیوں کے نشاں مت تلاش کر

اب ہم بھی اس دیار میں بس بے حواس ہیں

Yeh Shaam Aur Tera Naam Donon Udaas Hain

Hum Bhi Tere Baghair Sitamgaah Ke Paas Hain

Dekha Hai Jab Se Tu Ne Humein Be-Rukhi Ke Saath

Dil Mein Ajeeb Gham Ke Kayi Iltibaas Hain

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے