ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں بر Lux
Hum to Samjhe The ke Barsaat mein Barsegi Sharab
ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب
پر یہاں آنسوؤں کی جھڑی لگی رہتی ہے
دلِ بے تاب کو سمجھائیں تو کیسے سمجھائیں
ہر گھڑی تیری طلب دل میں جگی رہتی ہے
وہ جو کہتے تھے کہ ہم تیرے ہیں ہر لمحہ صنم
اب ان کی یاد ہی بس دل میں بسی رہتی ہے
Hum To Samjhe The Ke Barsaat Mein Barsegi Sharab
Par Yahan Aansuon Ki Jhadi Lagi Rehti Hai
Dil-e-Be-Taab Ko Samjhayein To Kaise Samjhayein
Har Ghadi Teri Talab Dil Mein Jagi Rehti Hai
غزل
تعارفِ شاعر
پروین شاکر
پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...
