شاعری ہب / غزل / ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں بر Lux

ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں بر Lux

Hum to Samjhe The ke Barsaat mein Barsegi Sharab

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب

پر یہاں آنسوؤں کی جھڑی لگی رہتی ہے

دلِ بے تاب کو سمجھائیں تو کیسے سمجھائیں

ہر گھڑی تیری طلب دل میں جگی رہتی ہے

وہ جو کہتے تھے کہ ہم تیرے ہیں ہر لمحہ صنم

اب ان کی یاد ہی بس دل میں بسی رہتی ہے

Hum To Samjhe The Ke Barsaat Mein Barsegi Sharab

Par Yahan Aansuon Ki Jhadi Lagi Rehti Hai

Dil-e-Be-Taab Ko Samjhayein To Kaise Samjhayein

Har Ghadi Teri Talab Dil Mein Jagi Rehti Hai

غزل
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے